کوٹلی : جاوید بٹ نے AJK سمیت پاکستان بھر کی موجودہ سیاسی صورتحال اور سیاست دانوں کے رویوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اقتدار کی ہوس میں تقریباً تمام سیاست دان کسی نہ کسی کے سہارے اور گٹھ جوڑ کے ذریعے ہی آگے آئے ہیں، اس لیے اب ایک دوسرے پر الزام تراشی ان کو زیب نہیں دیتی۔.
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والے اپنے ایک بیان میں جاوید بٹ نے نام لیے بغیر ایک سینئر سیاست دان کے ماضی کے سیاسی سفر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اقتدار حاصل کرنے کی خواہش میں یہ سلسلہ کونسلر کے انتخاب سے شروع ہوا جب شیخ رشید کی گاڑی کے ساتھ لپٹ کر اور مبینہ جعلی ووٹوں کے ذریعے مسلم کانفرنس کی رکنیت حاصل کی گئی۔.
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد اپنی ہی پارٹی (مسلم کانفرنس) کے وزیر اعظم کے خلاف سازشوں کا سلسلہ جاری رہا، پھر ن لیگ کے ساتھ مل کر وزارت عظمیٰ کے خواب دیکھے گئے اور اسی اقتدار کی گاڑی میں بیٹھ کر نیلم سے الیکشن لڑا گیا۔ بعد ازاں راجہ فاروق حیدر کے خلاف دوسروں کا سہارا لے کر اپنی ہی پارٹی کے خلاف سرگرمیاں جاری رکھیں۔.
جاوید بٹ کا کہنا تھا کہ اقتدار کی کرسی سے چمٹے رہنے کے لیے پہلے انوار الحق کو ووٹ دینے پر مجبور ہوئے اور پھر بعد میں انہی کے خلاف ووٹ دینے میں پیش پیش رہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب اور وفاقی حکومت کے ساتھ مل کر وزارت عظمیٰ کی خواہش میں الیکشن لڑے گئے، لیکن اس بار بھی موصوف دہائیوں پرانی اقتدار کی خواہش سے محروم رہے۔.
انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر کہا کہ AJK سمیت پورے پاکستان میں تقریباً تمام سیاست دان کسی نہ کسی کی "گاڑی کے ساتھ لپٹ کر" ہی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے ہیں، لہٰذا ایسے حالات میں اب ایک دوسرے کو نیچا دکھانا یا اصول پرستی کے دعوے کرنا سیاست دانوں کو زیب نہیں دیتا۔.


