بھمبر میں مبینہ ٹیکس چوری کا بڑا اسکینڈل بے نقاب، 96 لاکھ روپے سے زائد کی ٹیکس چوری کا انکشاف، دو گودام سیل!
پائینیر سگریٹ فیکٹری سے منسلک مبینہ نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹوں کے گوداموں پر حساس اداروں کے چھاپے، محکمہ ٹیکس کے بعض اہلکاروں کی مبینہ سہولت کاری بھی زیرِ سوال
بھمبر (آواز نیوز): آزاد کشمیر کے ضلع بھمبر میں مبینہ طور پر لاکھوں روپے کی ٹیکس چوری کا بڑا معاملہ سامنے آیا ہے۔ پائینیر سگریٹ فیکٹری سے منسلک بتائے جانے والے نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹوں کے گوداموں پر حساس اداروں کی کارروائی کے دوران 96 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ ٹیکس چوری کا انکشاف ہوا ہے، جبکہ دو گودام سیل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب حساس اداروں نے بھمبر کے علاقوں بڑھنگ اور ماچھیا میں قائم سگریٹوں کے دو گوداموں پر اچانک چھاپے مارے۔ کارروائی کے دوران بڑی مقدار میں ایسے سگریٹوں کی موجودگی کی اطلاعات سامنے آئیں جن پر مبینہ طور پر سرکاری ڈیوٹی اور متعلقہ ٹیکس ادا نہیں کیے گئے تھے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مذکورہ گوداموں میں موجود سگریٹوں کی مد میں قومی خزانے کو 96 لاکھ روپے سے زائد کا مبینہ نقصان پہنچائے جانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ کارروائی کے بعد دونوں گوداموں کو سیل کر دیا گیا، جبکہ معاملے کی مزید چھان بین سے متعلق اطلاعات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
محکمہ ٹیکس کے بعض اہلکاروں کی مبینہ سہولت کاری کا معاملہ بھی سامنے آ گیا۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کارروائی کے دوران محکمہ ٹیکس بھمبر کے بعض اہلکاروں کے مبینہ روابط اور غیر قانونی کاروبار میں ممکنہ سہولت کاری سے متعلق بھی اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے متعلقہ اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی اور عملے کی تبدیلیوں کی سفارش کیے جانے کا بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے۔
اس معاملے نے متعلقہ محکموں کی نگرانی، ٹیکس وصولیوں کے نظام اور نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹوں کی مبینہ ذخیرہ اندوزی کی روک تھام کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
اہم سوال یہ ہے کہ اگر اتنی بڑی مقدار میں نان ڈیوٹی پیڈ سگریٹ ذخیرہ کیے جا رہے تھے تو متعلقہ اداروں کی نگرانی کا نظام کہاں تھا، اور اس مبینہ کاروبار کے پیچھے کون سے عناصر سرگرم تھے؟
تاہم 96 لاکھ روپے سے زائد کی مبینہ ٹیکس چوری، پائینیر سگریٹ فیکٹری سے گوداموں کے تعلق اور محکمہ ٹیکس کے اہلکاروں کی ممکنہ سہولت کاری سے متعلق دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ہونا باقی ہے۔ متعلقہ فیکٹری انتظامیہ اور محکمہ ٹیکس کا مؤقف بھی تاحال دستیاب نہیں ہو سکا۔
www.awaznews.live


